سری نگر، 30؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے آہنگام میں جمعہ کی صبح جنگجوؤں کی طرف سے فوج کی ایک پارٹی پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ جنگجو تنظیم ’جیش محمد‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ایک گروپ نے جمعہ کی صبح آہنگام شوپیان میں فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز کی ایک پارٹی پر پہلے گرینیڈ پھینکا اور بعدازاں فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا ’جنگجوؤں کے حملے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے‘۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فوجیوں نے جوابی فائرنگ بھی کی، لیکن حملہ آور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
انہوں نے بتایا ’حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے علاقہ میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے‘۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنگجوؤں کی طرف سے نشانہ بنائے گئے فوجی اہلکار آرمی گڈ ول سکول آہنگام میں تعینات تھے۔ حملہ آوروں کی تعداد 2 سے تین بتائی جارہی ہے۔ ایک مقامی خبررساں ایجنسی کے مطابق جنگجو تنظیم ’جیش محمد‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس دوران ریاستی پولیس کی طرف سے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنگجوؤں کی طرف سے گڈول پبلک سکول آہنگام کے نذدیک فوج کی ایک پارٹی پر حملہ کیا گیا جس میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ’جنگجوؤں کی طرف سے فوجی اہلکاروں کو نشانہ بناکر اُس وقت گرینیڈ پھینکا گیا جب وہ گڈول پبلک سکول کو کھولنے میں مصروف تھے۔ گرینیڈ پھینکنے کے بعد جنگجوؤں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی‘۔'
بیان کے مطابق جنگجوؤں کے حملے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ’علاقہ میں عام شہریوں اور طلباء کی موجودگی کی وجہ سے فوجیوں نے صبروتحمل سے کام لیا۔ پولیس نے واقعہ کی نسبت کیس درج کرلیا ہے‘۔